اس میں کیا جُرم کیا خطا صاحب
دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب
پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو
پھر نیا ہو کوئی خُدا صاحب
جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی
کیا بھلا ان کو بھُولنا صاحب
وہ بھی میری طرح بھُلا ڈالیں
کیا کہیں کچھ کبھی ہُوا صاحب
دل تڑپتا نہیں ہے ان کے لیے
کر چُکے سب دوا دُعا صاحب
ہے یہ مشہور اپنے بارے میں
وہ کسی کا نہ ہو سکا صاحب
ہم پہ تُہمت کہ کر دیا بدنام
اس قدر جھُوٹ انتہا صاحب
ذکر اکثر کیا ہے عشق کا پر
نام کس کا کبھی لیا صاحب
علی فراز رضوی
No comments:
Post a Comment