Sunday, 3 January 2021

دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے

 دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے

حاکم بھی لرزاں ہیں ہے تخت کفن پہنے

گھبراہٹ ہے چہرے پہ آج شکاری کے

پنچھی نکلے سب ہیں یوں سخت کفن پہنے

کلہاڑے گر لائے ہیں شاہ کے ساتھی بھی

سمجھو یارو! اب تو ہے رخت کفن پہنے

جس کے ہاتھوں اجڑے تمام چمن میرے

گر جنگل کا فِیل ہے مست کفن پہنے

واسی جب دھرتی کے کھڑے ہیں کفن لے کر

حاکم کے پھر کاہے نہ بخت کفن پہنے

چھوڑا جس نے آج ہے بوڑھے ضعیفوں کو

سب کے دل کا ہائے وہ لخت کفن پہنے

لوگوں کو بھی سرخ گلاب دکھاتے ہو

امبر خود بھی بھرتے ہو جست کفن پہنے


شہباز امبر رانجھا

No comments:

Post a Comment