دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے
حاکم بھی لرزاں ہیں ہے تخت کفن پہنے
گھبراہٹ ہے چہرے پہ آج شکاری کے
پنچھی نکلے سب ہیں یوں سخت کفن پہنے
کلہاڑے گر لائے ہیں شاہ کے ساتھی بھی
سمجھو یارو! اب تو ہے رخت کفن پہنے
جس کے ہاتھوں اجڑے تمام چمن میرے
گر جنگل کا فِیل ہے مست کفن پہنے
واسی جب دھرتی کے کھڑے ہیں کفن لے کر
حاکم کے پھر کاہے نہ بخت کفن پہنے
چھوڑا جس نے آج ہے بوڑھے ضعیفوں کو
سب کے دل کا ہائے وہ لخت کفن پہنے
لوگوں کو بھی سرخ گلاب دکھاتے ہو
امبر خود بھی بھرتے ہو جست کفن پہنے
شہباز امبر رانجھا
No comments:
Post a Comment