اک کپ چائے
اک بار بلا لو کھانے پر
یا خود آ جاؤ چائے پہ
یوں تو ہر سو گھاٹے ہیں
گھر کے حالات بھی ماٹھے ہیں
خبروں میں روز بتاتے ہیں
چینی سو تک آ پہنچی ہے
ہم سیدھے سادھے لوگوں کو
یہ عیاشی مہنگی ہے
پر اتنا تو ممکن ہے
کہ اک کپ چائے بن پائے
اک شام سہانی اوڑھ کے تم
اپنے پیکر کو اجالے آ دھمکو
اے چاند پورن ماشی کے
میرے بام پہ آ چمکو
چائے
یہ چائے، یعنی میرے ہاتھ کی چائے
بس قسمت والے پی سکتے ہیں
چائے پر بات کریں ناں بولنے والے
ادرک، لونگ، الائچی، چینی اور پتی
کچھ بات ملائی پر بھی
ورنہ ہونٹوں کو سی سکتے ہیں
تم کو بھی تاکید ہے بس یہ
مجھ سے بات کا موضوع جو بھی رکھنا چاہو
اس میں اک حصہ چائے کا ہو
لان نہیں، نہ ٹیرس ہے
کچے صحن میں پیڑ تلے
ہم تم نین ملائیں گے
پیالی میں طوفان اٹھائیں گے
باضابطہ دستور سے ملنا ولنا
سب بعد کی باتیں ہیں
اللّٰہ جانے مستقبل میں
کیسے دن اور راتیں ہیں
ساری فکریں ترک کئے
اک شام چلے آؤ
مٹھی میں آئے چند لمحے
آؤ ساتھ میں جی لیتے ہیں
اک کپ چائے
آدھی آدھی پی لیتے ہیں
ماہم حیا صفدر
No comments:
Post a Comment