Saturday, 12 February 2022

نظر کو آئینہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے

نظر کو آئینہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے

تجھے ہم کیا سے کیا اے زلفِ جانانہ بنا دیں گے

ہمیں اچھا ہے بن جائیں سراپا سرگزشت اپنی

نہیں تو لوگ جو چاہیں گے افسانہ بنا دیں گے

امید ایسی نہ تھی محفل کے ارباب بصیرت سے

گناہ شمع کو بھی جرم پروانہ بنا دیں گے

ہمیں تو فکر دل سازی کی ہے دل ہے تو دنیا ہے

صنم پہلے بنا دیں پھر صنم خانہ بنا دیں گے

نہ اتنا چھیڑ کر اے وقت دیوانہ بنا ہم کو

ہوئے دیوانے ہم تو سب کو دیوانہ بنا دیں گے

نہ جانے کتنے دل بن جائیں گے اک دل کے ٹکڑے سے

وہ توڑیں آئینہ ہم آئینہ خانہ بنا دیں گے


کلیم عاجز

No comments:

Post a Comment