پر ہول و پر خطر ہے فضا جاگتا ہوں میں
مسموم سی ہے آب و ہوا، جاگتا ہوں میں
لب پہ ہے روشنی کی دعا، جاگتا ہوں میں
میں بن چکا ہوں کوہِ ندا، جاگتا ہوں میں
میرا قصور میری خطا، جاگتا ہوں میں
ہاں درمیانِ کرب و بلا جاگتا ہوں میں
ارباب دیر و اہلِ حرم سو گئے تو کیا
سویا نہیں شعور مِرا، جاگتا ہوں میں
مجھ کو بھی جاگنے کی سعادت ہوئی نصیب
اے مرحبا و صل علیٰ، جاگتا ہوں میں
اس دور میں کہ سو گئے سب مصلحت شناس
ہر چند جاگنا ہے بُرا، جاگتا ہوں میں
آزادئ ضمیر کا سودا بھی خوب ہے
زنداں سے آ رہی ہے صدا جاگتا ہوں میں
کل یہ میرا قصور تھا، تم لوگ سو گئے
اور آج ہے یہ میری خطا جاگتا ہوں میں
اب یہ تو اپنے اپنے تصرف کی بات ہے
مجھ کو یہی ملی ہے سزا، جاگتا ہوں میں
تم پر تو خیر نیند کا غلبہ بلا کا ہے
میں مانگتا رہوں گا دعا، جاگتا ہوں میں
میں عصرِ نو کا دیدۂ شب زندہ دار ہوں
سوئی ہے ساری خلقِ خدا، جاگتا ہوں میں
یہ بات آج کل کوئی کہنے کی بات تھی
خالد یہ کیا کہا، جو کہا جاگتا ہوں میں
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment