حقیقت میں ہے تاریکی، مگر سپنے سہانے ہیں
مِری سوچوں کے محور میں سبھی جھوٹے فسانے ہیں
تجھے افسوس کاہے کا، یہاں فرقوں کے بڑھنے پر
ابھی تو مولبی نے اور کئی فرقے بنانے ہیں
تِری بارانِ رحمت کی طلب بھی ہے ہمیں یا رب
مگر خطرہ بھی لاحق ہے کہ ٹوٹے آشیانے ہیں
منافق کا مِری نظروں میں اتنا سا تعارف ہے
پِدر سے دشمنی اس کو پِسر سے دوستانے ہیں
مجھے ان تلخیوں سے خوف اب بالکل نہیں آتا
اداسی اور فرقت سے مِرے رشتے پرانے ہیں
قدم پیچھے رکھوں تو خودبخود آگے کو جاتے ہیں
مِری ماں کے لبوں پر جو دعاؤں کے ترانے ہیں
تجمل عباس جارب
No comments:
Post a Comment