Monday, 10 January 2022

سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں

 تاگا تاگا مجھے کون کھولے


سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں

اور میری اُلجھن کی

سُلجھن بھی دُشوار ہے

تاگا تاگا مجھے کون کھولے

مجھے رنگ در رنگ

اور حرف در حرف پرکھے

کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ

اے مِری بے دلی کے شکستہ کنارو

مِرے خواب ہستی کے

موہوم ریشم کو

کس دھوپ کی

زرد دیمک نے چاٹا

کون سی خواہشوں کی

ہری ٹہنیوں پر

برہنہ ہواؤں کے پنجے پڑے

کس طلب کی کتھا

ان کے راستوں میں کہیں 

راہ گم کردہ رہرو کی صورت

خجل اور کم رخت رہنے لگی

میں اداسی کی گہری سہیلی ہوں

تیکھی پہیلی ہوں

اور میری اُلجھن کی سُلجھن بھی دُشوار ہے

میں یُگوں سے کسی درد کی خوش ہنر انگلیوں کی

تنک تاب پوروں سے

اپنا پتا پوچھتی ہوں

بہت کار عقدہ کشائی کٹھن ہے

مگر میں کسی رنج برسر

خیال جنوں پیشہ کی

آرزو کر رہی ہوں

یہ گُنجل سُلجھ جائے

اس دُھن میں

دل کے نشیبوں کو

کیا کیا لہو کر رہی ہوں


مہناز انجم

No comments:

Post a Comment