Monday, 10 January 2022

کاش تمہیں جوانی میں موت آ جاتی

 Omission


کسی دراز میں پڑی ہوں گی

میری آنکھوں سے لپٹی روغنی پُتلیاں

جن پہ بہتان ہے

حبس رسیدہ کمرے کی سسکیاں کاٹ کھانے کا

تنومند خاتون کی ترسیب زدہ رانوں کے بیچ

تصادم کے حلقے میں پڑا، زرد سیلن کے خول میں رخنے بُنتا

شہرِ معدوم کا لاشہ نوچتے خدا کو گھورتا ہوا مَیں 

خدا، جو سرخ دوشیزہ کے بدن پر کندہ

بوسہ گاہوں کی مانند مقدس 

سیاہ مست ملاح کی عورت 

میرے سینے پہ سر رکھتے ہوئے چنگھاڑتی ہے

وہ جہاز کے مستول سے کود کر مَرا تھا

جنگ کے دنوں میں پُرتگالی حسینہ سے ملاقات

وہ یقیناً مجھے مبتلا کر سکتی تھی

مگر

ہم جزیروں سے خالی ہاتھ لوٹنے والے قسم کھاتے ہیں

ہمارے پاس مشکیزوں میں سستے گُڑ کی شراب ہے

اور کچھ دوست جو وافر مقدار میں تمباکو اُگا رہے ہیں

سرطانی رطوبتوں میں لتھڑے

ہمارے ٹخنے بارود سے زخمی ہیں

ہم اپنے بازوؤں سے جھڑتے ہوئے بال 

تمہیں دکھا سکتے ہیں

نم خوردہ بندوقوں اور ناکارہ جیپوں کے علاوہ 

ہمارے قبضے میں چند لڑکیاں اور رسد خانے ہیں

دھجیاں اور چیتھڑے سمیٹنے کو نحیف انگلیاں زیادہ نہیں ہیں 

نچلی دراز سے میری بہتان زدہ آنکھیں نکال لاؤ 

میرے بچے، کاش تمہیں جوانی میں موت آ جاتی


حسن علوی

No comments:

Post a Comment