جو میری ہستی کا آسرا ہے، کہاں گیا ہے؟
کسی نے دیکھا کہیں ملا ہے، کہاں گیا ہے
وہ دسترس میں نہیں ہے لیکن اسے تلاشوں
جو اک پرندے کا فلسفہ ہے، کہاں گیا ہے
مجھے تو اس سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن
کیا مجھ سے اس کو کوئی گِلا ہے کہاں گیا ہے
مجھے تو اب تک ہیں یاد اس کی تمام باتیں
سنا ہے اس نے بھلا دیا ہے، کہاں گیا ہے
جو ایک دھاگہ دِیا سلائی میں ڈل نہ پایا
تمہیں وہ دھاگہ کہیں ملا ہے، کہاں گیا ہے
پھر اس کے بچپن کے دوستوں کو میں کال کرتا
اور ان سے کہتا تمہیں پتا ہے، کہاں گیا ہے؟
ولید ولی
No comments:
Post a Comment