Monday, 10 January 2022

کس لیے پوچھتے ہیں جبکہ سبب جانتے ہیں

 کس لیے پوچھتے ہیں جبکہ سبب جانتے ہیں

لوگ جو حالِ دلِ چارہ طلب جانتے ہیں

کس کی لو ٹھہرتی ہے کون سے بجھتے ہیں چراغ

ہم نقیبانِ ہوا، سب کے نسب جانتے ہیں

آشنا لاکھ ملیں تجھ سے قریں بھی ہوں بہت

جاننے والے بھی اے دل! تجھے کب جانتے ہیں

کس کے دھوکے میں رہیں منتظر خواب حسیں

ہم بھی سادہ ہیں، کہاں مہلتِ شب جانتے ہیں

سایہ تک رکھتے ہیں ملحوظ دبستانِ وفا

آنکھ اٹھائیں بھی تو آداب و ادب جانتے ہیں

کون کٹھ پتلی ہے، ایوان تماشا کس کا؟

پسِ پردہ تو حقیقت یہاں سب جانتے ہیں


حمزہ ہاشمی سوز

No comments:

Post a Comment