سرخ آنکھوں کا نم چھپانا ہے
ورنہ کاجل تو اک بہانہ ہے
اس محبت کی خیر ہو مولا
اس محبت نے دُکھ کمانا ہے
اب یہ تمہید کیا ضروری ہے
تم نے جانا تھا، تم کو جانا ہے
آؤ پیڑوں سے بات کرتے ہیں
اور، وحشت کا کیا ٹھکانہ ہے
عشق کارِ زیاں سہی، لیکن
ہم نے بچوں کو بھی سکھانا ہے
کیا کہانی کے ختم ہونے تک
میرے ہیرو نے لوٹ آنا ہے؟
وقفے وقفے سے چائے کی چُسکی
اس اداسی کو تازیانہ ہے
بے وفا ہو کے دیکھیۓ صاحب
گر تعلق کو آزمانا ہے
روز آتا ہے چارہ سازی کو
غم سے رشتہ بڑا پرانا ہے
میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا نا
تم نے اک دن مجھے گنوانا ہے
ایمان قیصرانی
No comments:
Post a Comment