Sunday, 9 January 2022

رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے

رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے

بے سبب ہم سبب تیرا پالے ہوئے

تیری فرقت میں سکریٹ کو اپنا لیا

دل بھی جلتا رہا، ہونٹ کالے ہوئے

ایک وعدہ بھی تم سے وفا کب ہوا

میں تِری ذات میں خود کو ڈھالے ہوئے

تیری یادوں کے جگنو چمکنے لگے

دل کے ویراں نگر میں اجالے ہوئے

اجڑے آنگن میں رقصاں ہیں ویرانیاں

منتظر گھر میں مکڑی کے جالے ہوئے

اس قدر ہجر میں یار! تڑپا ہوں میں

میری آنکھوں میں رو رو کے چھالے ہوئے

ایک کپڑوں کا جوڑا جو تحفہ دیا

پانچواں سال ہے وہ سنبھالے ہوئے


تجمل عباس جارب

No comments:

Post a Comment