رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے
بے سبب ہم سبب تیرا پالے ہوئے
تیری فرقت میں سکریٹ کو اپنا لیا
دل بھی جلتا رہا، ہونٹ کالے ہوئے
ایک وعدہ بھی تم سے وفا کب ہوا
میں تِری ذات میں خود کو ڈھالے ہوئے
تیری یادوں کے جگنو چمکنے لگے
دل کے ویراں نگر میں اجالے ہوئے
اجڑے آنگن میں رقصاں ہیں ویرانیاں
منتظر گھر میں مکڑی کے جالے ہوئے
اس قدر ہجر میں یار! تڑپا ہوں میں
میری آنکھوں میں رو رو کے چھالے ہوئے
ایک کپڑوں کا جوڑا جو تحفہ دیا
پانچواں سال ہے وہ سنبھالے ہوئے
تجمل عباس جارب
No comments:
Post a Comment