Sunday, 9 January 2022

میں اسے کس کرنا چاہتا ہوں

 A wish-to-kiss-her


ہم انہیں بتائیں گے

ہمارے برف ہوئے ہاتھ

پیانو بجانا سیکھ چکے ہیں

او جیسس، میرے مصلوب خدا

ہم جان چکے ہیں

پرانے ٹیلی فون کے دائرے میں

مسخ ہندسے کیسے ڈائل کیے جاتے ہیں

ہماری انگلیاں

وائلن کی سٹک پر اچھی گرفت رکھتی ہیں

ہم اکارڈیئن کی دونوں اطراف پر لگے

سارے بٹن گِن سکتے ہیں

ہماری سانسیں

کنفیشن باکس کے پردوں میں

چھپی آوازیں سونگھ پائیں گی

شمالی فرانسیسی لڑکیاں

جنہیں کولڈ کافی پسند ہے

میرے پیارے جیسس 

تمہاری عبادت گاہ کے وسط میں

مِسز مارکس کی سرپرستی میں

وہ لڑکیاں آرکسٹرا بجا رہی ہیں

ہم گیت گانا چاہتے ہیں

مگر تھک چکے ہیں

جسم ٹوٹتے ہیں

ہمارے ہونٹ

سگریٹ سے نیلے پڑ گئے

کیا ہم تمہاری میز سے

سرخ مشروبات لے سکتے ہیں؟

اوہ  میرے خدا، اسے بتاؤ

میں اسے کس کرنا چاہتا ہوں


حسن علوی

No comments:

Post a Comment