Sunday, 9 January 2022

رات صدائیں چپ ہوں گی تو تیرا رستہ دیکھوں گی

 رات صدائیں چپ ہوں گی تو تیرا رستہ دیکھوں گی

چپکے چپکے خواب آنکھوں میں تیرا چہرہ ڈھونڈوں گی

بادل، بارش، رنگ میں ڈھل کر جب تجھ کو یوں تکتے ہیں 

قطرہ قطرہ بہہ کر تجھ کو، لمحہ لمحہ سوچوں گی

سات زمانے تجھ سے بچھڑ کر روح میں میری بستے ہیں 

تیری ساری آہیں اپنے دل میں چھپا کر رکھوں گی

صبح کا وقت ہو، شام ہو یا پھر رات گھنی دیواروں پر

پتھر پتھر روند کے تجھ تک نیند نگر میں پہنچوں گی

دھوپ کا موسم کرب سے تڑپا خالی خالی گلیوں میں

پیلا سورج ڈوبے گا تو پھر میں تجھ کو مانگوں گی


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment