Sunday, 9 January 2022

نہاں ہے دل میں جو غم ان گنت مہینوں سے

 نہاں ہے دل میں جو غم ان گنت مہینوں سے

اگر تُو اہل نظر ہے تو پڑھ جبینوں سے

مجھے اَنا سے وہ پتھر عزیز تر ٹھہرا

مفاہمت جو برتتا ہے آبگینوں سے

اُٹھا کے لے گئے سب کچھ وہ آسماں والے

خدا کا رزق جو پیدا ہوا زمینوں سے

اب انتقام کا شعلہ بھڑکنے والا ہے

کوئی جری ہے تو کہہ دے فلک نشینوں سے

ہم اہلِ دل ہیں رہِ عشق کے بھی راہی ہیں

ہمارے دل کو ابھی ربط ہے حسینوں سے


ریاض راہی

No comments:

Post a Comment