اسے ہے ناز لشکر کا
میں ساتھی ہوں ٭بہتّر کا
ہماری کانچ سی خواہش
تمہارا دل ہے پتھر کا
یہاں برگد بھی دیکھا تھا
جہاں ہے پیڑ نشتر کا
لذت کھانے کی پوچھ ان سے
جو بھوکا ہو دن بھر کا
ہمارا گھر ہے مٹی کا
تمہارا سنگِ مرمر کا
امن کی بات کرتا ہے
جو بندہ ہے سبب شر کا
زبیر اک بوریا اور میں
یہ قصہ ہے میرے گھر کا
زبیر شیخ
٭ 72
No comments:
Post a Comment