Sunday, 9 January 2022

میرے پہلو میں مرا سایہ پڑا چیختا ہے

 اے خدا قبر میں اک جسم پڑا چیختا ہے

موسمِ قہر میں اک پیڑ ہرا چیختا ہے

پھر اداسی کا ترے لب سے مجھے علم ہوا

تُو کبھی آئے زمیں پر تو بڑا چیختا ہے

میرے اندر سے صداؤں کا ہجوم اٹھتا ہے

میری وحشت سے کہے کتنا بُرا چیختا ہے

میرے ماتھے پہ شکن تیری جدائی میں پڑی

میرے ہاتھوں میں تو اک جام بھرا چیختا ہے

میں تو اس دکھ کے بھی آنے پہ بہت روشن ہوں

وہ جو تنہائی میں بس خود سے ڈرا چیختا ہے

تیری آہٹ کا بدن چھو کے چلا آیا ہے

میرے پہلو میں مرا سایہ پڑا چیختا ہے


ابرار مظفر

No comments:

Post a Comment