Sunday, 9 January 2022

آج آسودہ سی شام میں میں نے

 آج آسودہ سی شام میں میں نے

ماضی کے جھروکے سے جھانک کر دیکھا

چند خواب پرانے، چند ٹوٹے کھلونے

گونجتی کلکاریاں میں اشکوں کی میگھا

کچھ گڈ مڈ سی، کچھ مٹی ہوئی

عمر کی ہتھیلی پہ قسمت کی ریکھا

کچھ سرد پڑے جذبات بھی تھے

ناکردہ سے حالات بھی تھے

میں نے مٹھی بھر کر گرد اڑا دی

جیسے گورکن پر ہو لاشوں کا ٹھیکا


رابعہ بگٹی

No comments:

Post a Comment