آج آسودہ سی شام میں میں نے
ماضی کے جھروکے سے جھانک کر دیکھا
چند خواب پرانے، چند ٹوٹے کھلونے
گونجتی کلکاریاں میں اشکوں کی میگھا
کچھ گڈ مڈ سی، کچھ مٹی ہوئی
عمر کی ہتھیلی پہ قسمت کی ریکھا
کچھ سرد پڑے جذبات بھی تھے
ناکردہ سے حالات بھی تھے
میں نے مٹھی بھر کر گرد اڑا دی
جیسے گورکن پر ہو لاشوں کا ٹھیکا
رابعہ بگٹی
No comments:
Post a Comment