Sunday, 9 January 2022

راکھ میں آگ ڈھونڈنے لگی ہے

 راکھ میں آگ ڈھونڈنے لگی ہے

وہ مِرا ہاتھ چومنے لگی ہے

پہلی چاہت کا لمس لے رہی ہے

مورنی دل میں جھومنے لگی ہے

کب تلک روکتی رہو گی مجھے

آخری بس بھی چھوٹنے لگی ہے

ایک تتلی کو عشق ہو گیا ہے

میری تصویر چومنے لگی ہے

اب یہ بہتر ہے کال کاٹ دوں میں

اس کی آواز ڈوبنے لگی ہے

اک نیا دوست مل گیا ہے اسے

اب وہ نادان روٹھنے لگی ہے

پھر کوئی دھوکا دے گیا اس کو

سب سے وہ میرا پوچھنے لگی ہے

وہ مجھے میرا بدر کہتی ہے

روشنی مجھے میں پھوٹنے لگی ہے


نعمان بدر

No comments:

Post a Comment