Sunday, 9 January 2022

آنکھوں میں لفظ بھر کے پرانی دعا کے میں

 آنکھوں میں لفظ بھر کے پرانی دعا کے میں

بیٹھا ہوا ہوں دھیان میں یعنی خدا کے میں

آج اس کو اپنے ساتھ مناؤں گا رات بھر

لایا ہوں ایک شام سہانی چُرا کے میں

دریا و دشت دونوں مِرے ہم مزاج ہیں

پیتا ہوں روز آگ میں پانی مِلا کے میں

چوپال میں بناتا ہوں اپنے لیے جگہ

بوڑھے شجر کو تیری کہانی سُنا کے میں

یہ شہر چھین لیتا ہے نقش و نگار تک

آتا ہوں روز گھر میں نشانی بتا کے میں


انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment