آنکھوں میں لفظ بھر کے پرانی دعا کے میں
بیٹھا ہوا ہوں دھیان میں یعنی خدا کے میں
آج اس کو اپنے ساتھ مناؤں گا رات بھر
لایا ہوں ایک شام سہانی چُرا کے میں
دریا و دشت دونوں مِرے ہم مزاج ہیں
پیتا ہوں روز آگ میں پانی مِلا کے میں
چوپال میں بناتا ہوں اپنے لیے جگہ
بوڑھے شجر کو تیری کہانی سُنا کے میں
یہ شہر چھین لیتا ہے نقش و نگار تک
آتا ہوں روز گھر میں نشانی بتا کے میں
انجم سلیمی
No comments:
Post a Comment