Sunday, 9 January 2022

نہ فاصلوں میں خلش نہ راحت ہے قربتوں میں

نہ فاصلوں میں خلش نہ راحت ہے قربتوں میں

میں جی رہا ہوں عجیب بے رنگ ساعتوں میں

تجھے غرض کیا کوئی بھی موضوعِ گفتگو ہو

ہر اک حقیقت بدل چکی جب حکایتوں میں

مِری وفا کے سفر کی تکمیل ہو تو کیسے

ہے تیرا محور تِری ادھوری محبتوں میں

کوئی تو میرے وجود کی سرحدیں بتائے

بھٹک رہا ہوں میں کب سے اپنی ہی وسعتوں میں

وہ ایک سایہ تھا عمر بھر کی تھکن کا حامل

وہ ایک سایہ جو کھو گیا ہے مسافتوں میں

میں زخم کھا کے بھی بد گماں ہو سکا نہ راشد

عجیب رنگِ خلوص تھا اس کی نفرتوں میں


ممتاز راشد

No comments:

Post a Comment