تھکے ہیں روز کے اس سلسلۂ اسلام سازی سے
ہمیں اب خوف آتا ہے یہاں فتنہ درازی سے
جسے خانۂ خدا میں بھی عبادت پر تکبر ہے
تو وہ زاہد برا ہے ایک نادم بے نمازی سے
فقط مسجد میں جانے سے خدا ہرگز نہیں ملتا
خدا راضی تو ہوتا ہے مگر بندہ نوازی سے
مِری سن کر اسے، اس کی مجھے آ کر سناتا ہے
مجھے ہے سخت نفرت، دوغلے پن، چال بازی سے
وہ دل کا بادشہ میرے میں اس کا عام سا نوکر
بنے محمود میرا وہ مجھے مطلب ایازی سے
یہ پاگل لوگ ہیں ناکام عاشق کہہ رہے مجھ کو
مجھے عشقِ حقیقی بھی ملا عشقِ مجازی سے
درِ سادات میری کامیابی کا سبب ٹھہرا
انا شبیرؑ سے سیکھی وفا سیکھی ہے غازی سے
تجمل عباس جارب
No comments:
Post a Comment