Friday, 11 February 2022

تھکے ہیں روز کے اس سلسلہ اسلام سازی سے

 تھکے ہیں روز کے اس سلسلۂ اسلام سازی سے

ہمیں اب خوف آتا ہے یہاں فتنہ درازی سے

جسے خانۂ خدا میں بھی عبادت پر تکبر ہے

تو وہ زاہد برا ہے ایک نادم بے نمازی سے

فقط مسجد میں جانے سے خدا ہرگز نہیں ملتا

خدا راضی تو ہوتا ہے مگر بندہ نوازی سے

مِری سن کر اسے، اس کی مجھے آ کر سناتا ہے

مجھے ہے سخت نفرت، دوغلے پن، چال بازی سے

وہ دل کا بادشہ میرے میں اس کا عام سا نوکر

بنے محمود میرا وہ مجھے مطلب ایازی سے

یہ پاگل لوگ ہیں ناکام عاشق کہہ رہے مجھ کو

مجھے عشقِ حقیقی بھی ملا عشقِ مجازی سے

درِ سادات میری کامیابی کا سبب ٹھہرا

انا شبیرؑ سے سیکھی وفا سیکھی ہے غازی سے


تجمل عباس جارب

No comments:

Post a Comment