کسی کو کیسے بتاؤں وبال میں گھر ہے
مِرے جنوب میں صحرا شمال میں گھر ہے
ہے کس غریب کی مٹی کی ناپ تول میں گم
وہ جس امیر کا سترہ کنال میں گھر ہے
میں رنگ رنگ ستاروں کا جال بُنتا رہا
مجھے لگا کہ مِرا اس کی شال میں گھر ہے
دھمک عجیب سی دیوار و در میں رہتی ہے
گمان رہتا ہے جیسے دھمال میں گھر ہے
یہ کیسا ڈر ہے مِرے دل میں گھر اُجڑنے کا
میں عنکبوت ہوں، یعنی کہ جال میں گھر ہے
مجھ ایسے خانہ بدوشوں پہ ایک مصرع ہے
کوئی تو چال ہے گھر میں کہ چال میں گھر ہے
ہر روز پوچھتی ہے فون پر شریکِ حیات
دیارِ غیر میں کتنے ریال میں گھر ہے؟
وہ در کُھلا نہ مِری بارہا کی دستک سے
خفا ہے، اور وہ میرے خیال میں گھر ہے
آصف انجم
No comments:
Post a Comment