میں نے رنگ برنگے کپڑے دیکھے ہیں
عید پہ لوگوں نے تھے پہنے، دیکھے ہیں
ہُو بہ ہُو بدلتے موسم کی مانند
میں نے کچھ بدلتے لہجے دیکھے ہیں
میں نے اس میں کھویا بھی ہے پایا بھی
میں نے عشق کے دونوں چہرے دیکھے ہیں
جن کو سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے
ہاں ہاں میں نے ایسے اندھے دیکھے ہیں
کچھ زبیر میں بچپن سے تھا سانولا سا
کچھ یہاں پر مضطر لمحے دیکھے ہیں
زبیر شیخ
No comments:
Post a Comment