Friday, 11 February 2022

میں نے رنگ برنگے کپڑے دیکھے ہیں

 میں نے رنگ برنگے کپڑے دیکھے ہیں

عید پہ لوگوں نے تھے پہنے، دیکھے ہیں

ہُو بہ ہُو بدلتے موسم کی مانند

میں نے کچھ بدلتے لہجے دیکھے ہیں

میں نے اس میں کھویا بھی ہے پایا بھی

میں نے عشق کے دونوں چہرے دیکھے ہیں

جن کو سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے

ہاں ہاں میں نے ایسے اندھے دیکھے ہیں

کچھ زبیر میں بچپن سے تھا سانولا سا

کچھ یہاں پر مضطر لمحے دیکھے ہیں


زبیر شیخ

No comments:

Post a Comment