Friday, 11 February 2022

حجاب ہم تھے ہمیں سے حجاب ہو کے رہا

 حجاب ہم تھے ہمیں سے حجاب ہو کے رہا

ہمارا شوق کسی کا نقاب ہو کے رہا

کمال عشق نے جس دل کو انتخاب کیا

نگاہِ حسن میں وہ انتخاب ہو کے رہا

نظر نظر رخِ ساقی سے فیضیاب ہوئی

نفس نفس کو سرورِ شراب ہو کے رہا

جنہیں تھا رشک انہیں ہم پہ رحم آتا ہے

خدا کی شان یہ کیا انقلاب ہو کے رہا

اڑا اڑا سا ادھر رنگ ادھر جھکی سی نظر

عجب ادا سے سوال و جواب ہو کے رہا

کمال عشق کے انداز دیکھنا تو بشیر

وجود بحر میں شامل حباب ہو کے رہا


بشیر حسین

No comments:

Post a Comment