Friday, 11 February 2022

وہ اگر درد ہے دوا بھی وہی

 وہ میرا آخری جزیرہ ہے


وہ اگر درد ہے، دوا بھی وہی

یہ حقیقت کھلی نہیں اس پہ

زرد پتوں کا ہمرکاب ہے دل

دل کی وحشت کھلی نہیں اس پہ

ہاں زمانہ شناس خوب ہے وہ

کیوں محبت کھلی نہیں اس پہ؟

وہ، میرا آخری جزیرہ ہے

میری حسرت کھلی نہیں اس پہ


کنول حسین

No comments:

Post a Comment