اس اداسی سے دم نکلتا ہے
تب کہیں جا کے غم نکلتا ہے
اب اکیلے نہیں چلا جاتا
اب قدم پر قدم نکلتا ہے
میں تو ہو کر بھی گھر نہیں ہوتا
وہ نکل کر بھی کم نکلتا ہے
چوک جائے یا تیرا جا کے لگے
کب کمانوں کا خم نکلتا ہے
تیرے دستِ کرم کا سنتے ہیں
کیا وہ دستِ کرم نکلتا ہے
تُو چلا جائے یا چلا آئے
دل خدا کی قسم نکلتا ہے
علی معین
No comments:
Post a Comment