Friday, 11 February 2022

دکھ میں کوئی دلدار نہ ہو تو

 بے دھیان مسافتوں کے ہمسفر کیلئے ایک نظم 


دُکھ میں کوئی دلدار نہ ہو تو

دھوپ کہیں دروازے سے باہر

آنکھیں موندے، چُپ سادھے بیٹھی رہتی ہے

یہ دنیا اظہار کی دنیا ہے

جس میں ہر کوئی اپنے

جذبے اور لفظوں کو ظاہر کرے تو پہنچانا جائے

گو ہم دونوں نے لفظوں کے کاندھے پر

کم سر رکھا ہے

لیکن بے دھیانی میں چلتے چلتے

دونوں کتنا آگے نکل گئے ہیں


حمیرا رحمان

No comments:

Post a Comment