Friday, 11 February 2022

اے خون فلاں شخص رگ جاں سے قریں ہو

 اے خونِ فلاں شخص رگِ جاں سے قریں ہو

اچھلا تو سہی درد کو درماں سے قریں ہو

اب چھائے گا آنکھوں پہ حسیں درد کا سایہ

انسان جو مر جائے تو یزداں سے قریں ہو

میں خاک ہوں اور خاک میں پتھر کی نمائش

جوں رام کی میت مجھے یزداں سے قریں ہو

گھٹ جائے نہ دم شب کی سیاہی میں ہمارا

مر جاؤں نہ میں آ کہ مِری جاں سے قریں ہو

پنجرے میں پرندوں کی صداؤں میں جلن ہے

روتے ہیں کہ اے قفل تو انساں سے قریں ہو 


ابرار مظفر

No comments:

Post a Comment