میں شعر غزل کے کیسے لکھوں، اور سب کو سناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا، نئی بات بناؤں کس کے لیے
وہ جب تک اپنے شہر میں تھا، ہم اس سے ہی دُکھ کہہ لیتے تھے
اب راز کی باتیں کس سے کروں، اور دل تڑپاؤں کس کے لیے
اس شخص کی خاطر اورں کی، ہر بات گوارا کرتے تھے
ایک بات غلط اب سُن کر بھی، نہ بُرا مناؤں کس کے لیے
وہ فیض، فراز، ناصر، امجد ، سب اپنے اب غیر ہوئے
میں ان کی نظمیں کیسے پڑھوں اور غزلیں گاؤں کس کے لیے
یہ معاذ ہوا ہے دیوانہ، جو ہر ایک سے یہ کہتا ہے
میں دُکھ جھیلوں کس کی خاطر، اور خوشیاں مناؤں کس کے لیے
معاذ صدیقی
No comments:
Post a Comment