Friday, 23 April 2021

رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا ہونا ہی تھا

 رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا، ہونا ہی تھا

وہ بھی آخر میرے جیسا ہو گیا ہونا ہی تھا

دشتِ امکاں میں یہ میرا مشغلہ بھی خوب ہے

روزنِ دیوار چہرہ ہو گیا، ہونا ہی تھا

ڈُوبتا سورج تمہاری یاد واپس کر گیا

شام آئی زخم تازہ ہو گیا، ہونا ہی تھا

عہدِ ضبطِ غم پہ قائم تھا دمِ رخصت مگر

وہ سکوتِ جاں بھی دریا ہو گیا ہونا ہی تھا

اب تُو ہی یہ فاصلہ طے کر سکے تو کر بھی لے

میں تو خود اپنا ہی زینہ ہو گیا، ہونا ہی تھا

میں نے بھی پرچھائیوں کے شہر کی پھر راہ لی

اور وہ بھی اپنے گھر کا ہو گیا، ہونا ہی تھا


اشعر نجمی

No comments:

Post a Comment