Friday, 23 April 2021

آنکھوں کو اب نگاہ کی عادت نہیں رہی

 آنکھوں کو اب نگاہ کی عادت نہیں رہی

اب کچھ بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی

سچائیوں کی راہ بہت ہو گئی کٹھن

اس راستے پہ چلنے کی ہمت نہیں رہی

دشمن ہو، دوست ہو، کوئی اپنا کہ غیر ہو

ہم کو تو اب کسی کی بھی حاجت نہیں رہی

دنیا عزیز تر رہی اک عرصۂ دراز

لیکن اب اس کی بھی تو محبت نہیں رہی

عرصہ ہوا کسی نے پکارا نہیں مجھے

شاید کسی کو میری ضرورت نہیں رہی

کانٹا سا ایک دل میں کھٹکتا ہے مستقل

پر دل کی بات کہنے کی عادت نہیں رہی

سرمایۂ حیات ہوا چاہتا ہے ختم

جس پر غرور تھا وہی دولت نہیں رہی

بشریٰ کبھی جو جاؤ وہاں عرضِ حال کو

کہنا کہ ہم پہ اب وہ عنایت نہیں رہی


بشریٰ ہاشمی

No comments:

Post a Comment