حالِ دل تجھ کو سنائیں گے چلے جائیں گے
ہم فقط خاک اُڑائیں گے، چلے جائیں گے
جس جگہ تم نے جلائے تھے چراغِ منت
اس جگہ سر کو جُھکائیں گے چلے جائیں گے
کیا تجھے یاد ہے گاؤں کا وہ بوڑھا برگد
پھر وہاں شور مچائیں گے چلے جائیں گے
ہم کو محبوب ہیں سب لوگ تِرے گاؤں کے
سب سے ہم ہاتھ ملائیں گے چلے جائیں گے
کون دیکھے گا یہ ہونٹوں پہ نشاں بوسوں کے
ہم تِرا وصل منائیں گے، چلے جائیں گے
اپنے بیمار کے پہلو میں گزارو اک شب
کچھ رُلائیں گے، ہنسائیں گے چلے جائیں گے
ہم وہ دیوانے صحرا میں گُزاریں گے جو شب
اور وہاں حشر اٹھائیں گے، چلے جائیں گے
بس وہ اک بار کہے یہ تو مرا ہے حامی
پھر گلے اس کو لگائیں گے چلے جائیں گے
حمزہ حامی
No comments:
Post a Comment