Friday, 23 April 2021

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

 ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

یعنی مِرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا

میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں

مجھ کو ہنسا دیا گیا، مجھ کو رُلا دیا گیا

میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو

مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا

میں نے کہا کہ زندگی، درد دیا گیا مجھے

میں نے کہا کہ آگہی، زہر پلا دیا گیا

خواب تھا میرا عشق بھی خواب تھا تیرا حسن بھی

خواب میں یعنی ایک اور خواب دِکھا دیا گیا


میر احمد نوید

No comments:

Post a Comment