سازِ سکوتِ شب ہوں نہ سوزِ رباب ہوں
پڑھ لو مجھے کہ ایک سُلگتی کتاب ہوں
اے گردشِ مدام! نہ ہنس میرے حال پر
میں فصلِ نو بہار کا دُھندلا سا خواب ہوں
میں وہ سبق ہوں جو نہ کبھی یاد ہو سکا
جس کو زمانہ پڑھ نہ سکا، وہ نصاب ہوں
کر لے مجھے بھی زینتِ مُحراب اے چمن
ہاتھوں کا تیرے مَسلا ہوا اک گُلاب ہوں
اطہر نہیں ہے تُو ہی فقط اک غریبِ شہر
تیرے ہی جیسا میں بھی بھٹکتا سحاب ہوں
اطہر عزیز
No comments:
Post a Comment