پھر اس نے مجھ سے بات کی کھانے کی میز پر
اک رسمِ التفات کی کھانے کی میز پر
جتنے بھی تھے گِلے سبھی چپ چاپ سن لیے
میں نے کچھ احتیاط کی کھانے کی میز پر
کچھ اور ہی لگا مجھے گندم کا ذائقہ
روٹی تھی اس کے ہاتھ کی کھانے کی میز پر
کھانا تو چاہتا تھا انہی انگلیوں سے میں
پر کٹلری تھی دھات کی کھانے کی میز پر
پچھلے برس حضور کا لہجہ تھا کچھ الگ
اب کے کچھ اور بات کی کھانے کی میز پر
یاسین عاطر
No comments:
Post a Comment