کالی گھٹا میں چاند نے چہرہ چھپا لیا
پھُولوں کی رُت نے باغ سے خیمہ اٹھا لیا
رُوٹھے ہیں وہ تو وصل کی رُت خواب ہو گئی
ہم نے جدائیوں کو گلے سے لگا لیا
جشن طرب کی رات بڑی خوشگوار تھی
تیرے بدن کی باس کو رُت نے چُرا لیا
اک گُل بدن ملی جو سراپا سپاس تھی
آنکھوں کے راستے اسے دل میں بٹھا لیا
ایسی نگاہ پیار کی یوں تاج کو ملی
دل کے نگر میں ایک دِیا سا جلا لیا
تاج سعید
No comments:
Post a Comment