Monday, 19 April 2021

لوگ جب تیرا نام لیتے ہیں

 لوگ جب تیرا نام لیتے ہیں

ہم کلیجے کو تھام لیتے ہیں

راہبر کی نہیں ہمیں حاجت

خضر کا دل سے کام لیتے ہیں

بادہ بھی مست ناز ہوتا ہے

جس ادا سے وہ جام لیتے ہیں

شیخ صاحب بہت مریدوں سے

آپ مال حرام لیتے ہیں

مفت بوسہ حسیں نہیں دیتے

دل جو دیتے ہیں دام لیتے ہیں

ان کو ڈھونڈے کہاں کہاں کوئی

کب وہ نام قیام لیتے ہیں

فتنۂ روزگار بن بن کر

گھر نیا صبح و شام لیتے ہیں

ضعف بھی کیف سے نہیں خالی

جب گروں میں وہ تھام لیتے ہیں

جان کر میر کا کلام اثر

لوگ تیرا کلام لیتے ہیں


امداد امام اثر

No comments:

Post a Comment