Monday, 19 April 2021

شکوہ ہم تجھ سے بھلا تیز ہوا کیا کرتے

 شکوہ ہم تجھ سے بھلا تیز ہوا کیا کرتے

گھر تو اپنے ہی چراغوں سے جلا کیا کرتے

تم تو پہلے ہی وفاؤں سے گریزاں تھے بہت

تم سے ہم ترکِ تعلق کا گِلہ کیا کرتے

تجھ سے دل میں جو گِلہ تھا، وہ نہ لائے لب پر

پھر سے ہم بھر گئے زخموں کو ہرا، کیا کرتے

ہم تو کر دیتے گِلہ تجھ سے، نہ آنے کا تیرے

گھونٹ دیتی تھی پر امید گَلا، کیا کرتے

جس کی اُلفت میں، ہر اک چیز لُٹا دی فیاض

ہم  کو سمجھا گئے آدابِ وفا، کیا کرتے


فیاض فاروقی

No comments:

Post a Comment