Monday, 19 April 2021

آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

 آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

پھر اسی در سے گزر کے دیکھتے

گفتگو کا کوئی تو ملتا سرا

پھر اسے ناراض کر کے دیکھتے

کاش جڑ جاتا وہ ٹوٹا آئینہ

ہم بھی کچھ دن بن سنور کے دیکھتے

رہ گزر ہی کو ٹھکانا کر لیا

کب تلک ہم خواب گھر کے دیکھتے

کاش مل جاتا کہیں ساحل کوئی

ہم بھی کشتی سے اتر کے دیکھتے

ہو گیا طاری سنورنے کا نشہ

ورنہ خواہش تھی بکھر کے دیکھتے

درد ہی گر حاصل ہستی ہے تو

درد کی حد سے گزر کے دیکھتے


منیش شکلا

No comments:

Post a Comment