Monday, 19 April 2021

وہ ستم دوست بنا دوست کسی کا نہ بنے

 وہ ستم دوست بنا دوست کسی کا نہ بنے

کیا بنے بات جہاں دل سے تمنا نہ بنے

مجھ میں بھی اک تِرا جلوہ ہے وہ کافر جلوہ

دیکھ لے تُو بھی جو اے شمع! تو پروانہ بنے

دل ہے اور آپ کے وعدے کا یقیں، کیا کہیے

کوئی اتنا نہ بنائے، کوئی اتنا نہ بنے

تیرے وعدے نے عجب سحر کیا ہے مجھ پر

تُو بھی خود یاد دلائے تو تقاضا نہ بنے

آدمی ہوش میں اپنے جو رہے اے میکش

گھُٹ کے مر جائے طلبگار کسی کا نہ بنے


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment