اس کو دیکھا تو نام بُھول گیا
پھر میں کرنا کلام بھول گیا
بھول کر وہ بھی سب گلے آیا
میں بھی شکوے تمام بھول گیا
اس کی آنکھوں کی بات ایسی چھڑی
میں اٹھانا ہی جام بھول گیا
آج تسلیم کرنا بھولا وہ
میں بھی کرنا سلام بھول گیا
کل وہ بھولا تھا بات کہنے کی
آج اس کا غلام بھول گیا
یوں ہی الجھا میں کل کی شب اس سے
وہ بھی رکھتا ہے دام بھول گیا
اس نے دل میں مقام پایا ہے
جو بھی اپنا مقام بھول گیا
حبیب کیفی
No comments:
Post a Comment