Saturday, 6 March 2021

جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

 جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے

میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں

جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ہوتا ہے

تمہاری بات کا میں نے برا کہاں مانا

جو اپنا ہوتا ہے اس سے گِلہ بھی ہوتا ہے

کسی مریض سے کہنا کہ آپ اچھے ہیں

یہ بات کہنے کا مطلب دوا بھی ہوتا ہے

یہ بات میرے سوا جانتا نہیں کوئی

کہ اس کی بات میں گہرا نشہ بھی ہوتا ہے


حبیب کیفی

No comments:

Post a Comment