جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے
وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے
میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں
جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ہوتا ہے
تمہاری بات کا میں نے برا کہاں مانا
جو اپنا ہوتا ہے اس سے گِلہ بھی ہوتا ہے
کسی مریض سے کہنا کہ آپ اچھے ہیں
یہ بات کہنے کا مطلب دوا بھی ہوتا ہے
یہ بات میرے سوا جانتا نہیں کوئی
کہ اس کی بات میں گہرا نشہ بھی ہوتا ہے
حبیب کیفی
No comments:
Post a Comment