اب فلک رول کے رکھ دے کہ سنبھالے ہم کو
کھا نہ جائیں یہ کہیں دن کے اجالے ہم کو
آج یہ کچا گھڑا ساتھ نہ دے پائے گا
اب کے دریا ہی کسی طور سنبھالے ہم کو
جان کے ساتھ اسے روح بھی دے دی اپنی
ہائے کیا ہونے لگے شوق نرالے ہم کو
کس قدر تنہا ہیں ہم آج تِری دنیا میں
جس کا جی چاہے وہ سو، باتیں سنا لے ہم کو
تیری آواز پہ دل چاہے کہ دوڑے آئیں
روک لیتے ہیں ہمؔا پاؤں کے چھالے ہم کو
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment