Saturday, 6 March 2021

اب فلک رول کے رکھ دے کہ سنبھالے ہم کو

 اب فلک رول کے رکھ دے کہ سنبھالے ہم کو

کھا نہ جائیں یہ کہیں دن کے اجالے ہم کو

آج یہ کچا گھڑا ساتھ نہ دے پائے گا

اب کے دریا ہی کسی طور سنبھالے ہم کو

جان کے ساتھ اسے روح بھی دے دی اپنی

ہائے کیا ہونے لگے شوق نرالے ہم کو

کس قدر تنہا ہیں ہم آج تِری دنیا میں

جس کا جی چاہے وہ سو، باتیں سنا لے ہم کو

تیری آواز پہ دل چاہے کہ دوڑے آئیں

روک لیتے ہیں ہمؔا پاؤں کے چھالے ہم کو


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment