اپنوں کی طرح ظلم پرایا نہیں کرتا
مشکل بھی پڑے، چھوڑ کے جایا نہیں کرتا
بکھرا ہوں ہوا سے تو سمیٹا بھی ہوا نے
بے وجہ میں الزام لگایا نہیں کرتا
چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری ذرا سن لیں
سورج کسی سر پر کبھی سایا نہیں کرتا
ممکن ہے جواں ہو تو یہ سایہ بھی نہ بخشے
اس ڈر سے کوئی پیڑ لگایا نہیں کرتا
پڑ جائے ضرورت تجھے حاضر ہے یہ جاں بھی
میں رسِ جہاں دوست نبھایا نہیں کرتا
کم ظرف تو دنیا میں کسی اور کے کاشف
سینے میں کبھی راز چھپایا نہیں کرتا
کاشف سجاد
No comments:
Post a Comment