زندگی یوں بھی تجھے صرفِ ہنر کرتے رہے
ہم کہ گم گشتہ جزیروں کا سفر کرتے رہے
گر گئے جلد ہی تعمیر جو گھر کرتے رہے
کام معمار کا تھا، آئینہ گر کرتے رہے
اب بھی نالاں ہے اگر ہم سے تو یہ مرضی تیری
لمحہ لمحہ تجھے موسم کی خبر کرتے رہے
ایک تم تھے کہ زیادہ پہ بھی ناخوش ہی رہے
ایک ہم تھے کہ بہت کم پہ گزر کرتے رہے
کاشف سجاد
No comments:
Post a Comment