Sunday, 6 June 2021

شوق جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا

 شوقِ جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا

پھر اس کو حسرتوں کا سمندر بنا دیا

دل سے نکالتے نہیں اک پَل صنم یہ لوگ

ان عاشقوں نے کعبے کو مندر بنا دیا

جب سے مِرے خیال کی دنیا میں تو بسا

میرے تخیلات کو سُندر بنا دیا

تیرہ شبی نظر میں اُترنے لگی جہاں

ہم نے تمہاری یاد کو چندر بنا دیا

سائر غمِ فراق میں بہتی رہے سدا

دریا کسی نے آنکھ کے اندر بنا دیا


سائرہ سائر

No comments:

Post a Comment