Wednesday, 19 January 2022

شب کی آغوش میں جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

 شب کی آغوش میں جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

نیند اک خواب پریشان کا گھر لگتا ہے

چیخ اٹھتے ہیں ٹھٹھرتے ہوئے پتے جوں ہی

سرد جھونکے کا گھنی شاخ سے سر لگتا ہے

یوکلپٹس کے درختوں پہ پسارے پاؤں

اونگھتا چاند اداسی کا نگر لگتا ہے

دیکھ کر آب زدہ شہر کو ساحل بولا

ڈوب جانے میں کہاں کوئی ہنر لگتا ہے

قافلے والو! ذرا دیر کو سو لینے دو

نیند کا چہرہ ہمیں خواب دگر لگتا ہے


نجمہ ثاقب

No comments:

Post a Comment