Wednesday, 19 January 2022

نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے

 نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے

کہ جواب جس کا نہ مل سکا مِرے ذہن میں وہ سوال ہے

جسے ہم سمجھتے ہیں مرگ ہے وہ تو اک تغیر حال ہے

جئے جس کے ہجر میں عمر بھر وہ ہی ایک لمحہ وصال ہے

فقط اک سراب ہے زندگی کہ حسیں سا خواب ہے زندگی

مِرے خواب آنکھوں سے چھن گئے تو یہ زندگی بھی محال ہے

ہے ازل سے یوں ہی تو جوں کا توں مجھے رفتہ رفتہ گزار کر

یہ ہی سلسلہ شب و روز کا یہ جو گردش مہ و سال ہے

جو ہو بند آنکھ تو کیا خبر ہمیں صاف آنے لگے نظر

جسے ہم سمجھتے ہیں زندگی فقط ایک خواب و خیال ہے


حقیر جہانی

No comments:

Post a Comment