Sunday, 6 June 2021

غم کمائی سے چل رہا ہے دل

 غم کمائی سے چل رہا ہے دل

کس ڈھٹائی سے چل رہا ہے دل

آپ آئے تو مجھ کو ایسا لگا

خوش نمائی سے چل رہا ہے دل

ورنہ اندر سے کچھ نہیں باقی

خود نمائی سے چل رہا ہے دل

تیرا ملنا شفا کا باعث ہے

اس دوائی سے چل رہا ہے دل

عشق میں ہجر کا سہارا ہے

پیر بھائی سے چل رہا ہے دل

ہجر نے داغ دھوئے آنکھوں کے

اس صفائی سے چل رہا ہے دل

غم نے کھولے قفس کہ در مجھ پہ

اس رہائی سے چل رہا ہے دل


مقدس ملک

No comments:

Post a Comment